ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

UET لاہور انڈرگریجویٹ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ.    Major progress in Lahore Police Anti-Drug Campaign.    "میرا ڈونا بلیسڈ ڈریم "کا پہلا ٹریلر جاری.    "پاکستان ممکنہ بھارتی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے".    Paperless driving license system is going to be introduced in Punjab.    Foolproof Security on the eve of Urs of Data Ali Hajveri (RA) and Chehlum of Hazrat Imam Hussain (AS).    "سب کو بتانا مرشد آئے تھے، "عثمان مرزا کے تیور نہ بدلے.    "اپنے لیے اپنے ملک کیلیے ویکسین لگوائیں"،شیخ رشید کی قوم سے اپیل.    MoU signed between Punjab Hepatitis Control Program, Ferozsons Laboratories Limited and Inspectorate of Prisons.    Pakistan and Austria FMs meet in New York.    Prime Minister’s special aide Jamshed Cheema backs Qalandar Badshah.    "نیوزی لینڈ میں اتنی فورسز نہیں ہوں گی جتنی انہیں یہاں سیکیورٹی فراہم کی گئی".    Director General Punjab Emergency Department Regularized Services of 103 Rescuers.    CEO Vscopk Mian Afzal Javed distributes shields to participants.   

سرکاری نوکریاں وراثت میں ملنے والی چیز نہیں: چیف جسٹس

عیزہ عمران
12 Oct, 2021

12 اکتوبر ، 2021

عیزہ عمران
12 Oct, 2021

12 اکتوبر ، 2021

سرکاری نوکریاں وراثت میں ملنے والی چیز نہیں: چیف جسٹس

post-title

اسلام آباد:  چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ باپ کی جگہ بیٹے کو نوکری دینے کا قانون ہی عجیب وغریب ہے، سرکاری دفاتر وراثت میں ملنے والی چیز تو نہیں ہیں، اس طرح نوکریاں دینے سے میرٹ کا مکمل خاتمہ ہوتا ہے، ایسا نہیں ہوسکتا کہ باپ کا انتقال ہوتو بیٹا بھرتی ہوجائے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دوران سروس انتقال کرنے والے ملازمین کے بچوں کونوکری دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
 جس میں عدالت نے کہا کہ سرکاری ملازمت کے اہل وہی بچے ہوں گے جن کے والد کا انتقال2005 کے بعد ہوا ہو، 2005 سے پہلے انتقال کرنے والے ملازمین کے بچوں پر وزیراعظم پیکج لاگو نہیں ہوگا۔
عدالت کا مزیدکہنا تھا کہ ابتدائی طور پریہ قانون پولیس اور دیگر شہدا کیلئے تھا، کم آمدن والے ملازمین کیلئے قانون بنا تھا لیکن بھرتی افسران کے بچے ہوتے ہیں۔
اس دوران درخواست گزار سراج محمد نے مؤقف اپنایا کہ والد کی جگہ بھرتی ہونے کی درخواست وفاقی وزارت تعلیم نے مسترد کردی ہے ۔
جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے مجھے بھرتی کرنے کا حکم دیا ہے۔جس کے بعد عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دےد یا۔


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM