ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Prime Minister’s special aide Jamshed Cheema backs Qalandar Badshah.    "نیوزی لینڈ میں اتنی فورسز نہیں ہوں گی جتنی انہیں یہاں سیکیورٹی فراہم کی گئی".    Director General Punjab Emergency Department Regularized Services of 103 Rescuers.    CEO Vscopk Mian Afzal Javed distributes shields to participants.    "مشترکہ مقصد2021ء "کا انعقاد.    Awareness seminar against sexual harassment and violence against women organized by Lahore Police.    Police Challan shows involvement of Zahir Jaffer's father in the murder of Noor Mukadam.    Here’s Pak Boon, an elephant at the Taronga Zoo Sydney, enjoying a mud bath in the Australian sun.    Pakistan urges world to recognise new reality in Afghanistan.    CCPO Directs Officers to Conduct Surprise Visits of Police Stations.    SPA CEYLON outlet now in Lahore.    VALIENT PUNJAB RANGERS IN 65 WAR.   

سقوطِ پنجشیر اور بھارتی میڈیا کی چیخیں

اعجاز سندھو
10 Sep, 2021

10 ستمبر ، 2021

اعجاز سندھو
10 Sep, 2021

10 ستمبر ، 2021

سقوطِ پنجشیر اور بھارتی میڈیا کی چیخیں

post-title

پنجشیر میں بنیادی طور پر تاجک نسل کے لوگ آباد ہیں - پنجشیر ، افغانستان میں بہت زیادہ علامتی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ علاقہ ماضی میں بیرونی حملہ آوروں کے قبضے کی بھرپور مزاحمت کرتا رہا ہے۔ پنجشیر وادی ، کابل سے تقریباً 70 کلومیٹر شمال میں ہندوکش کے پہاڑوں میں درہ سالنگ کے قریب واقع ہے ، جو کابل کو افغانستان کے شمالی علاقوں اور اس کے بعد ازبکستان سے جوڑتی ہے جو کہ سوویت یونین کا حصہ ہے۔ جون 1979 میں احمد شاہ مسعود کی قیادت میں ایک بغاوت نے تمام سرکاری اور روسی افواج کو پنجشیر سے نکال دیا اور وادی پنجشیر گوریلا جنگ کا گڑھ بن گئی۔ پنجشیر سے ، مجاہدین گروپوں نے اکثر سوویت یونین کے فوجی قافلوں پر گھات لگا کر حملے کیے جو افغانستان میں تعینات سوویت فوج کو سامانِ رسد فراہم کرتے تھے اور یوں وادی پنجشیر کا درہ سالنگ ایک خطرناک علاقہ بن گیا۔ سوویت ٹرک ڈرائیوروں کو اس علاقہ کو کامیابی سے عبور کرنے پر انعامات اور اعزازات سے بھی نوازا جاتا۔ لاجسٹک سپورٹ پر دباو¿ نے سوویت کمان کو وادی پنجشیر کے باغیوں کو ختم کرنے کی بھر پور کوششیں کیں۔پنجشیر حملے 1980 سے 1985 تک سوویت فوج اور احمد شاہ مسعود کی قیادت میں افغان مجاہدین کے گروپوں کے درمیان جھڑپوں کی شکل میں جاری رہے۔ ان حملوں کا ہدف 1980 میں سوویت افغان جنگ کے دوران افغانستان میں اسٹریٹجک اہمیت کی حامل پنجشیر وادی کا کنٹرول تھا۔ ان جھڑپوں نے افغان جنگ کی ایک انتہائی پ±ر تشدد لڑائی دیکھی۔ سویت فوج ، وادی پنجشیر پر اپنی بھر پور فوجی طاقت کے ساتھ افغان مجاہدین پر حملہ آور ہوتی ، گھمسان کا رن پڑتا ، سویت فوج کو وقتی طور پر کامیابی ملتی اور وہ افغان مجاہدین کو پنجشیر وادی سے نکالنے میں کامیاب ہو جاتی لیکن افغان مجاہدین تھوڑے ہی عرصے بعد پنجشیر وادی پر دوبارہ قبضہ کر لیتے اور پھر آخر کار سویت یونین کو نہ صرف وادی پنجشیر بلکہ پورے افغانستان سے افغان مجاہدین کے ہاتھوں شکستِ فاش کھانے کے بعد واپس جانا پڑا۔ یوں غیور افغانیوں نے پہلے تاجِ برطانیہ کو اور پھر دوسری سپر پاور سوویت یونین کو عبرت ناک شکست دی۔ 
9/11 کا بہانہ بنا کر جب دنیا کی ایک اور سپر پاور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ہمراہ افغانستان پر قبضہ کرنے کے لئے حملہ کیا تو جذبہ ایمانی سے سرشار افغان مجاہدین ایک بار پھر طالبان کی شکل میں باطل سے ٹکرا گئے اور 20 سال تک دنیا کی عظیم ترین اور جدید ترین اسلحہ سے لیس افواج سے برسرِپیکار رہے۔ اس دوران طالبان کے ایک رہنما نے مغربی میڈیا کے ایک نیوز چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے علامہ اقبال کا یہ شعر پڑھا 
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
اس شعر کا نیوز اینکر نے مذاق ا±ڑاتے ہوئے کہا کہ ہم بھی دیکھتے ہیں کہ دنیا کی سپر پاور امریکہ اور نیٹو افواج کے خلاف بغیر ہتھیاروں کے تم لوگ کیسے لڑتے ہو اور پھر 15 اگست 2021ئ کو پوری دنیا نے اقبال کے شعر کو سچا ہوتے ہوئے دیکھا جب طالبان نے دنیا کی ایک عظیم سپر پاور امریکہ کے ساتھ ساتھ اس کی اتحادی نیٹو افواج اور جدید ترین اسلحہ سے لیس اور ٹرینڈ 3 لاکھ افغان فوج کو عبرت ناک شکست دے کر کابل سمیت پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا۔ 
آئی ایس آئی کے سابق چیف جزل حمید گ±ل نے اپنے
 ٹی وی انٹرویو میں ایک دفعہ کہا تھا کہ آئی ایس آئی نے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے سوویت یونین کو شکست دی اور بہت جلد وہ بھی وقت آنے والا ہے جب لوگ کہیں گے کہ آئی ایس آئی نے افغانستان میں امریکہ کی مدد سے امریکہ کو شکست دی۔ کاش آج جزل حمید گ±ل زندہ ہوتے اور اپنے الفاظ کو سچ ہوتے دیکھ کر کتنے خوش ہوتے۔ 
15 اگست 2021ئ کو جب طالبان نے غیر ملکی افواج کو شکست دے کر نکال باہر کیا تو افغانستان میں شکست خوردہ طاقتوں اور بھارت کی آشیرباد سے وادی پنجشیر میں احمد شاہ مسعود کے بیٹے نے افغانستان پر طالبان کے قبضے کو چیلنج کرتے ہوئے طالبان کے خلاف بغاوت کر دی۔ طالبان نے پہلے تو ا±س کو مذاکرات کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو طالبان نے پنجشیر پر بھر پور حملہ کرکے قبضہ کر لیا۔ جیسے ہی طالبان نے وادی پنجشیر پر قبضہ کا اعلان کیا بھارتی میڈیا کی چیخیں نکل گئیں۔ 
بھارتی میڈیا نے ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے جانبدارانہ اور غیر منطقی نعرے بازی شروع کر دی۔ بھارتی میڈیا یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان نے اپنی فضائیہ اور اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کو استعمال کیا ہے اور طالبان کو پنجشیر میں فتح کی طرف لے گیا ہے۔ پاکستان اور طالبان نے چند لمحوں میں یہ جنگ پنجشیر میں کیسے جیت لی جبکہ سوویت یونین کئی سال تک لڑائی کے باوجود پنجشیر پر قبضہ نہ کر سکا۔ لگتا ہے کہ بھارتی میڈیا یہ اعتراف کر رہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج سوویت یونین کی افواج سے بھی زیادہ پیشہ ور ہیں یا یہ صرف ایک اور جھوٹا الزام ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ آپ ہار جاتے ہیں یہاں تک کہ اگرچہ آپ کے پاس زیادہ ٹرینڈ فوج ، زیادہ جدید اسلحہ اور بے پناہ وسائل ہوں مگر سچی لگن ، عظیم مقصد اور جذبہ شہادت کا فقدان ہو اور نااہل اور بدعنوان قیادت ہو۔ بھارت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ طالبان افغانستان میں عوام کے حقیقی نمائندے ہیں اور یقیناً وہی افغانستان کو خوشحالی اور ترقی کی نئی سمت کی طرف لے جائیں گے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے ایک منظم پروپیگنڈہ مہم کے ذریعے سے یہ جھوٹا الزام عام کرنے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان اور طالبان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا کہ پاکستان وادی پنجشیر پر قبضہ کرنے کے لئے طالبان کی مدد کرے گا اور طالبان بدلے میں ، کشمیریوں کو آزادی دلانے میں پاکستان کی مدد کریں گے۔ بھارتی میڈیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کشمیری حریت پسند اپنے آپ کو آزاد کرانے کے لیے کئی دہائیوں سے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جنگ پوری بہادری سے لڑ رہے ہیں تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کو کشمیریوں کے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کے لیے کسی کی توثیق یا مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت سے پہلے بھی پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا تھا اور مستقبل میں بھی کھڑا رہے گا کیونکہ ہمیں ایمان کی حد تک یقین ہے کہ انڈیا کشمیر سے ایسے ہی ذلیل ہو کر بھاگے گا جیسے امریکہ افغانستان سے شرمناک شکست کے بعد بھاگا ہے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور وہ دن د±ور نہیں جب کشمیر پاکستان کا حصہ ہو گا اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ شرمندہ تعبیر ہوگا۔ اگر پرائیڈ آف پاکستان آئی ایس آئی ، سوویت یونین اور امریکہ کو شکست دے سکتی ہے تو بھارت کس کھیت کی مولی ہے۔ 
 ہندوستانی میڈیا مسلسل افغانستان میں خواتین اور بچوں کے مظلوم ہونے کی جھوٹی تصویریں پیش کر رہا ہے اور مقامی لوگوں پر طالبان کی جانب سے جھوٹے ظلم کے ڈرامے رچا رہا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ طالبان نے خواتین اور بچوں کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے ، بھارت ، افغانستان میں طالبان کی حکومت کو ناکام کرنے کے جس جھوٹے پروپیگنڈے کو ہوا دے رہا ہے وہ اس میں کامیاب نہیں ہوگا کیونکہ فتح ہمیشہ حق سچ کی ہوتی ہے۔
بھارت جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے افغانستان میں انسانی حقوق بہت بڑا علمبردار بنا پھرتا ہے لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ جب مسئلہ کشمیر کی بات آتی ہے تو بھارت بنیادی انسانی حقوق کو بھول جاتا ہے۔ بھارت ذرا بتائے کہ اگر اس کے پیٹ میں انسانی حقوق کی پامالی کا اتنا ہی مروڑ ا±ٹھ رہا ہے تو اس نے "آرٹیکل 370" کو کیوں منسوخ کیا اور وہ کئی دہائیوں سے کشمیریوں پر وہ کون سا ظلم ہے جو نہیں کر رہا۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے اور مظلوم کشمیریوں کو کب سے زبردستی گھروں میں محصور ، نظر بند اور لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ افغانستان میں انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کے منہ پر یہ طمانچہ اور کھلی منافقت نہیں ہے؟
 پوری دنیا ، خاص طور پر افغانستان جیسے خطے کے ممالک ، طالبان کی حکمرانی اور افغانستان میں امن کے حق میں ہیں کیونکہ افغانستان میں استحکام کا مطلب خطے میں استحکام ہے اور کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جس نے اس کی مخالفت کی ہو سوائے صرف اور صرف بھارت کے ! بھارت افغانستان میں طالبان کی حکمرانی کے حق میں کیوں نہیں ہے؟ کیا بھارت کو یہ اختیار بھی دیا جانا چاہیے کہ وہ اس معاملے پر اپنی رائے اس بنیاد پر شیئر کرے جو وہ کشمیر میں برسوں سے کر رہے ہیں؟ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کو باقی دنیا سے الگ کرنے میں ایک "بھر پور کوشش" کی تھی خاص طور پر 2014ئ کے بعد ، لیکن امریکہ اور روس کی طرح بھارت کو بھی ب±ری طرح شکست ہوئی ، دونوں طالبان کی نئی حکومت سے پہلے ہندوستان کے اتحادی تھے۔
اب افغانستان میں طالبان سے پہلے کی حکمرانی پر نظر ڈالتے ہیں ، میجر جنرل جی ڈی بخشی (ر) نےایک دفعہ کہا تھا کہ بھارت کو پاکستان کے مشرقی علاقہ پر حملہ کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان کی مسلح افواج مغربی سرحد پر (پاکستان مخالف افغان حکومت کی وجہ سے) اور ملک کے اندر "بی ایل اے ، ٹی ٹی پی" جیسے دہشت گرد گروپوں سے لڑ رہی ہے جنہیں را اور امریکہ کی مالی معاونت حاصل ہے لیکن وہ اپنے ان ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہو سکے کیونکہ افواج پاکستان اپنی تمام سرحدوں پر ہر وقت الرٹ تھیں جس کا منہ بولتا ثبوت 27 فروری کو پاک فضائیہ کا بھارتی فضائیہ کے دانت کھٹے کرنا تھا جسے بھارت ہمیشہ یاد رکھے گا۔
 بھارتی میڈیا کے لیے یہ ناقابل فہم ہے کہ افغانستان میں نئی طالبان ​​حکومت ، پاکستان کی حامی ہے اور انہوں نے پاکستان کی مغربی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنایا ہے۔ اس طرح ، پاکستان کی فوج اب بھارت کے ساتھ اپنی مشرقی سرحد اور مسئلہ کشمیر پر بھر پور توجہ مرکوز کر سکتی ہے۔ اب بھارتی فوج کو پاکستان اور چین کے خلاف 2 محاذوں پر لڑنا ہوگا جس کی بھارتی فوج کسی بھی طرح متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ ماضی قریب میں جب بھارتی سورموں نے چین کے فوجیوں سے پنگا لیا تو ا±نہوں نے بھارتی فوجیوں کی ایسی پٹائی اور ٹھکائی کی جس کی مثال نہیں ملتی۔


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM