ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Major progress in Lahore Police Anti-Drug Campaign.    "میرا ڈونا بلیسڈ ڈریم "کا پہلا ٹریلر جاری.    "پاکستان ممکنہ بھارتی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے".    Paperless driving license system is going to be introduced in Punjab.    Foolproof Security on the eve of Urs of Data Ali Hajveri (RA) and Chehlum of Hazrat Imam Hussain (AS).    "سب کو بتانا مرشد آئے تھے، "عثمان مرزا کے تیور نہ بدلے.    "اپنے لیے اپنے ملک کیلیے ویکسین لگوائیں"،شیخ رشید کی قوم سے اپیل.    MoU signed between Punjab Hepatitis Control Program, Ferozsons Laboratories Limited and Inspectorate of Prisons.    Pakistan and Austria FMs meet in New York.    Prime Minister’s special aide Jamshed Cheema backs Qalandar Badshah.    "نیوزی لینڈ میں اتنی فورسز نہیں ہوں گی جتنی انہیں یہاں سیکیورٹی فراہم کی گئی".    Director General Punjab Emergency Department Regularized Services of 103 Rescuers.    CEO Vscopk Mian Afzal Javed distributes shields to participants.    "مشترکہ مقصد2021ء "کا انعقاد.   

شہادت بلارہی ہے، مجھے آرمی میں جانا ہے!

ذیشان علی چشتی
20 Sep, 2021

20 ستمبر ، 2021

ذیشان علی چشتی
20 Sep, 2021

20 ستمبر ، 2021

شہادت بلارہی ہے، مجھے آرمی میں جانا ہے!

post-title

توڑا نہیں جادو میری تکبیر نے تیرا؟

ہے تجھ میں مکر جانے کی جرات تو مکر جا!

کیپٹن عفان مسعود خان 14 جولائی 2021 کو پسنی کے مقام پر دشمنان اسلام و پاکستان کی تخریب کاری سے شہید ہوئے۔ان کا قصہ شہادت ہماری نسلوں کے لیے بہادری و جرات کی تا قیامت مثال ہے۔ کفار آج بھی غلامان رسول پاک ، جانشین اسد اللہ ؑ، نائب سیف اللہؑ سے تھرتھراتے ہیں ۔ کیپٹن عفان مسعود شہید پاک فوج کے سپاہیانہ صلاحتیوں کے حامل جوان تھے۔ آپ کی پیدائش 26 نومبر 1992ءکو لاہور میں ہوئی۔
آپ کے والد پروفیسر ڈاکٹر خان راس مسعود پینتس سال جامعہ پنجاب میں درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ پروفیسر ڈاکٹر خان راس مسعود نے بطور سربراہ باٹنی ڈیپارٹمنٹ اور رجسٹرارجامعہ اپنی خدمات پیش کیں۔ کیپٹن عفان مسعود شہید تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔بچپن سے ہی آپ کم گو اور سنجیدہ تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم یوسف اسکول سسٹم سے حاصل کی اور 2009ءمیں میٹرک بھی یہیں سے اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ 
 2011 میں ایف ایس سی پری انجینئرنگ بھی اعلی نمبروں سے پاس کرلی۔انجینئربننے کا شوق ان کو کشاں کشاں انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل انجینئرنگ پنجاب یونیورسٹی لے گیا ۔ جدھر آپ کو میرٹ پر داخلہ ملا۔ آپ نے ادھر انجینئرنگ کی سینکڑوں کتابیں پڑھیں مگر روح کی بے قراری کم نہ ہوئی ۔ اسی اثناء میں آپ نے علامہ محمد اقبال کو پڑھنا شروع کیا۔ آپ شروع سے پنجگانہ نماز اداکرتے تھے مگر ان کو کچھ اور ہی مطلوب و مقصود تھا۔
 بالآ خر انہوںنے آخری سمسٹر میں انجینئرنگ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ۔ 2015ءمیں آپ نے اپنے والد پروفیسر ڈاکٹر خان راس مسعود خان سے ا نجینئرنگ چھوڑنے کی اجازت مانگی اور عرض کیا مجھے شہادت بلارہی ہے مجھے آرمی میں جانا ہے۔ اس وقت عفان مسعود شہید کے چچا اور بڑے بھائی آرمی میں اعلی رینک آفیسر تھے۔آپ کے والد نے کہا بیٹا !  جس ادارے میں آپ انجینئرنگ کررہے ہیں، یہاں خوش نصیب طلبہ کے داخلہ ہوتے ہیں ،اس کا میرٹ پاکستان میں سب سے زیادہ ہے لہذا آپ پہلے انجینئرنگ کرلیں، بعد میں اپنا پاک فوج کا شوق پورا کرلینا ۔تب کیپٹن عفان مسعود شہید نے پاک فوج میں کمیشنڈ آفیسر کے لیے درخواست دینے کی اجازت چاہی۔
 آخرکار 15 اپریل 2015ءکو آپ کے 135 لانگ کورس پی ایم اے کا آغاز ہوا۔ جہاں آپ نے اعلی کارکردگی کا مظاہرہ توکیامگر آپ کی اضطرابی کیفیت بڑھتی جارہی تھی ۔ آپ کو شہادت سنہرے خواب کی طرح یاد آتی تھی جس کاتذکرہ آپ نے پی ایم اے کے وقت لکھی ہوئی ڈائری میں کچھ یوں کیا ہے :  ـ باکسنگ رنگ میں ایک کیڈٹ کی شہادت ہوگئی۔ میں پہلی بار کسی شہید کا جنازہ پڑھنے گیا تھا کیا رعب اور دبدبہ تھا۔ ایسا منظر جو بیان نہیں ہوسکتا ۔ پرچم میں لپیٹا ہوا جسد خاکی وطن سے کیے وعدے کو وفاءکررہا تھا۔ آپ کو یہ جنازہ یقینا اپنے خواب کی یاد دلا رہا تھا جس کی تعبیر بس شہادت تھی۔ عفان مسعود اس شہید کی قسمت میں انگشت بدنداں تھے۔ پی ایم اے میں آپ نے  تیراکی میں گولڈ میڈل بھی اپنے نام کیا۔ آپ نے چوائس آف آرم میں انجینئرنگ کا انتخاب کیا ،مگر بعدازاں بٹالین کمانڈر کے اصرارپر 63 ایف ایف رجمنٹ میں 15اپریل 2017 ءکو بطور سیکنڈ لیفٹینٹ اپنی منزل پر گامزن ہوگئے۔
بٹالین کمانڈرکیپٹن عفان کے بارے میں اکثر کہا کرتے تھے یہ جوان شہادت کے لیے تو آگ میں بھی کود جاتا ہے یہ شہادت کے لئےبے قرا ر ہے۔ مگر بٹالین کمانڈرصاحب کو شاید معلوم نہ تھا وہ تو شہادت سے عشق کرتے تھے۔ آپ کی پہلی تعیناتی پنوں عاقل اور بعد میں اوکاڑہ ہوئی۔ہر گزرتا دن انہیں بے قرار کرتا جارہا تھا۔ اوکاڑہ تعیناتی کے وقت دسمبر 2019ءمیں آپ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے تھے۔ باایں ہمہ تذبذب کم نہ ہوا ۔ اب آپ برملا اپنے اس خواب کا تذکرہ سب کے سامنے کردیتے تھے۔دن بہ دن آپ کی بے چینی بڑھتی جارہی تھی کبھی آپ علامہ اقبال کا مطالعہ کرتے تو کبھی تصوف کی باتیں کرتے، تو کبھی اپنے والد سے منصور حلاج کے انا الحق نعرے پر گھنٹوں فون کال کرتے۔
 شادی کے چار ماہ بعد آپ کی تعیناتی بلوچستان کے شہر پسنی میں ہوئی۔ کیپٹن عفان مسعود شہید کے ہاں اپریل 2021 میں بیٹے کی پیدائش ہوئی جن کا نام آپ نے عارفین مسعود خان رکھا۔ ان ساری خوشیوں اور کامیابیوں کے باوجود وہ خود کو نامکمل سمجھتے تھے اور طبیعت میں اضطراب آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ پسنی میں روزانہ شام آپ علاقہ کیئر کرنے دیگر سپاہیوں کی قیادت کرتے تھے۔
14 جولائی کی شام آپ ایک افسر کی غیر حاضری بوجہ چھٹی علاقہ کیئر کرنے ڈرائیور کے ساتھ جارہے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب شہادت بانہیں کھولے آپ کو بلا رہی تھی۔شہادت اپنے محبوب کو گلے لگانے کو بےتاب تھی ۔ اب آپ کا دیرینہ خواب پورا ہوتا نظر آرہا تھا۔
 دہشت گردوں نے آپ کے راستے پر باردوی سرنگ بچھا رکھی تھی جو پھٹنے کی وجہ سے آپ ڈرئیور سمیت شدید زخمی ہوگئے اس سے پہلے کہ بقیہ جوان پریشان ہوتے۔ کیپٹن عفان مسعود شہید نے باآواز بلند کلمہ طیبہ کا ورد شروع کردیااور جوانوں کا لہو گرما۔
 یوں شہید نے جام شہادت نوش کیا!
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM