ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Prime Minister’s special aide Jamshed Cheema backs Qalandar Badshah.    "نیوزی لینڈ میں اتنی فورسز نہیں ہوں گی جتنی انہیں یہاں سیکیورٹی فراہم کی گئی".    Director General Punjab Emergency Department Regularized Services of 103 Rescuers.    CEO Vscopk Mian Afzal Javed distributes shields to participants.    "مشترکہ مقصد2021ء "کا انعقاد.    Awareness seminar against sexual harassment and violence against women organized by Lahore Police.    Police Challan shows involvement of Zahir Jaffer's father in the murder of Noor Mukadam.    Here’s Pak Boon, an elephant at the Taronga Zoo Sydney, enjoying a mud bath in the Australian sun.    Pakistan urges world to recognise new reality in Afghanistan.    CCPO Directs Officers to Conduct Surprise Visits of Police Stations.    SPA CEYLON outlet now in Lahore.    VALIENT PUNJAB RANGERS IN 65 WAR.   

’ہم کہاں کے سچے تھے‘: عثمان مختار نے اسود کا کردار ادا کرنے سے منع کیوں کر دیا تھا؟

وجاہت اختر
13 Sep, 2021

13 ستمبر ، 2021

وجاہت اختر
13 Sep, 2021

13 ستمبر ، 2021

’ہم کہاں کے سچے تھے‘: عثمان مختار نے اسود کا کردار ادا کرنے سے منع کیوں کر دیا تھا؟

post-title

عثمان مختار
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں حال ہی میں اپنے کریئر کا آغاز کرتے ہی مشہور ہو جانے والے نوجوان اداکار عثمان مختار کا کوئی ڈرامہ آن ایئر ہو اور وہ زیر بحث نہ ہو ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ یہیں حال ان کے نئے ڈرامہ سیریل ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ کا ہے جو آج کل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیر بحث نظر آتا ہے۔
عثمان اس ڈرامے میں اسود نامی لڑکے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ عثمان مختار کا کہنا تھا کہ جب انھیں اس کردار کی پیشکش کی گئی گی تو انھیں بتایا گیا تھا کہ یہ عمیرہ احمد کا ایک پرانا ناول ہے جس پر ڈرامہ بنایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق جب اس کردار کے لیے انھوں نے تحقیق کی تو انھیں پتہ چلا کہ یہ کردار ناول میں بہت زیادہ منفی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب جب ڈرامہ بنایا گیا ہے تو اس کردار کی تلخی کو تھوڑا کم کیا گیا ہے۔‘
عثمان مختار کا کہنا تھا کہ اُن کا کردار ’اسود‘ ایک پُرامید انسان کا ہے اور کسی سے غلط رویوں کی توقع نہیں رکھتا۔ ’جس طرح اسود یہ سوچ نہیں سکتا کہ اس کی کزن جھوٹ بول سکتی ہے اور مسلسل باتیں سُن کر ان باتوں پر یقین کر لیتا ہے، اسی طرح ہم دور حاضر میں غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘
انھوں نے کورونا کی وبا کی دوران اپنے ایک ذاتی تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’میں نے کئی لوگوں کو ویکسینیشن کے لیے کہا تو ان کا کہنا تھا کہ سر ہم نے ویکسینیشن کے بعد دو سال میں مر جانا ہے۔ اگر ہم انٹرنیٹ پر ایک غیر مصدقہ چیز پر یقین کر لیتے ہیں تو اسود (کردار) تو پھر اپنی کزن سے یہ سب سُن رہا تھا۔‘
اسود کا کردار کرنے سے منع کر دیا تھا
عثمان مختار کا کہنا تھا کہ جب انھیں یہ کردار آفر کیا گیا تو وہ اسے قبول کرنے میں تھوڑا ہچکچا رہے تھے کیونکہ وہ اپنے کرداروں کے انتخاب کے معاملے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے میرے دوست اور بیوی بھی کہتے ہیں کہ بہت زیادہ سوچا نہ کرو یہ تمہارا کام ہے۔‘
’میں اداکار ہوں اور ٹی وی پر آنے والے اداکار، ہدایتکار یا پروڈیوسر ان سب کے کام بہت ذمہ داری کے ہیں۔ ہم جو مواد بناتے ہیں وہ لوگ دیکھتے ہیں، وہ ان سے کچھ چیزیں سیکھ سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’مجھے اسود کا کردار بہت منفی لگا تھا اور اس میں بہت ساری چیزیں کرنے کے لیے میں مطمئن نہیں تھا تو میں نے کہا کہ میں یہ سب کرنے میں کمفرٹیبل نہیں ہوں، اس لیے آپ مجھے بدل دیں انھوں نے کہا کہ نہیں آپ یہ کریں۔‘
عثمان مختار
،تصویر کا ذریعہHUM TV
کرداروں کے چناؤ میں اتنی ہچکچاہٹ کیوں؟
عثمان مختار کا یہ تیسرا ڈرامہ ہے۔ اس سے پہلے وہ ’انا‘ اور ’ثبات‘ میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔ وہ اگرچہ سٹیج کے اداکار تھے لیکن جب انھیں ٹیلی ویژن کے لیے ’انا‘ ڈرامہ آفر ہوا تو ان کے مطابق اس کے بعد انھیں اتنا پیار اور توجہ ملی کہ انھوں نے اسے جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ کرداروں کے معاملے میں وہ بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔
’یقیناً میں اس بارے میں سوچتا ہوں لیکن میں بہرحال ایک اداکار ہوں اور مجھے اپنے بل ادا کرنے ہوتے ہیں اگر میں ہر سکرپٹ کو نہ بولوں گا تو میرے پاس کھانے کے پیسے بھی نہیں ہوں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ہمارا کام ہے۔۔۔ میں جتنا کر سکتا ہوں وہ کرتا ہوں۔‘
انھوں نے کہا ’ڈرامہ میں ایک جگہ ایسا ہوتا ہے کہ اسود مہرین سے بدسلوکی کرتا ہے لیکن میں نے کہا کہ میں یہ نہیں کر سکتا، ہم اس کی شدت کو کم کر سکتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ ناظرین یہ کہیں کہ یہ ہیرو ہے اگر یہ کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا کہ اسود کسی کو تھپڑ مارے یا گلا دبائے۔ ہم اشتعال دکھا سکتے ہیں، ہاتھ لگائے بغیر یہ دکھایا جا سکتا ہے۔۔۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ یہ چیزیں نہیں ہو سکتیں۔‘
عثمان مختار کی ہیروئنز کی شادیاں ہو جاتی ہیں
عثمان مختار کے بارے میں سوشل میڈیا پر بننے والی میمز میں سے ایک یہ تھی کہ اب تک انھوں نے جن اداکاراؤں کے ساتھ کام کیا ہے اُن کی شادی ہو جاتی ہے، لیکن اب تو عثمان مختار کی بھی شادی ہو گئی ہے، یہ دیکھ اور سُن کر انھیں کیسا لگتا تھا؟
اس پر عثمان مختار کا کہنا تھا ’یہ مزاحیہ باتیں پڑھ کر اچھا لگتا تھا کہ چلو میری وجہ سے اداکاراؤں کی شادیاں ہو جاتی ہیں۔‘
جنھوں نے ’ثبات‘ ڈرامہ نہیں دیکھا ’کیا وہ واقعی پاکستانی ہیں؟‘
’اوئے موٹی: ایک سال میں وزن کم کر لو ورنہ میں منگنی توڑ دوں گا‘
’ہر مرد کا حق ہے کہ وہ پسند کی لڑکی کو شادی کی پیشکش کر سکے‘
رقصِ بسمل کی اداکارہ سارہ خان ’ہمیشہ‘ مردوں کو برا دکھانے پر نالاں کیوں؟
انھوں نے کہا کہ حالیہ ڈرامے ’ہم کہاں کے سچے تھے‘ میں ان کے ساتھ کام کرنے والی اداکارہ کبریٰ خان کی اگر شادی ہو جاتی ہے تو پھر وہ بھی اس بات کو ماننے لگیں گے۔
ان کا ازراہ مذاق کہنا تھا کہ ’اگر میرے ساتھ کام کرنے والی چار سے پانچ اداکاراؤں کی شادی ہو جاتی ہے تو پھر تو میں یہ کاروبار شروع کر دوں گا کہ میرے ساتھ تصویر لیں اور آپ کی شادی ہو جائے گی۔‘
انھوں نے بتایا ’کئی لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ سر ہمارے ساتھ تصویر لے لیں ہماری شادی ہو جائے گی۔‘
عثمان مختار
ماہرہ کے ساتھ کام کا تجربہ
’ہم کہاں کے سچے تھے‘ میں پاکستانی سپرسٹار ماہرہ خان بھی ایک طویل وقفے کے بعد ٹی وی سکرین پر دکھائی دے رہی ہیں۔ ان کے ساتھ کام کے تجربے پر عثمان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ماہرہ کو اپنے کام اور کردار پر محنت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
’وہ پہلی اداکارہ ہیں جنھیں میں نے میک اپ آرٹسٹ سے یہ کہتے ہوئے سُنا کہ مجھے اس کے لیے میک اپ مت کرو۔ انھوں نے کردار میں اُتر کر اسے بہت اچھے سے نبھایا ہے۔‘
’کام کے بعد گھر چلا جاتا ہوں‘
عثمان مختار کا کہنا تھا کہ وہ شوبز کی دنیا سے ہٹ کر اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
’میں کام کرنے کے بعد زیادہ تر گھر چلا جاتا ہوں، میں اپنے خاندان اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا ’اس سے پہلے میرے ڈرامے اسلام آباد میں شوٹ ہوئے جہاں کام کے بعد میں گھر چلا جاتا تھا کبھی کبھار ساتھی اداکاراؤں کے ساتھ کھانا کھایا۔ کراچی میں ڈرامہ کرنے کا یہ میرا پہلا تجربہ ہے اس لیے میری کوئی خاص سرگرمیاں نہیں ہیں۔‘


 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM