ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

Prime Minister’s special aide Jamshed Cheema backs Qalandar Badshah.    "نیوزی لینڈ میں اتنی فورسز نہیں ہوں گی جتنی انہیں یہاں سیکیورٹی فراہم کی گئی".    Director General Punjab Emergency Department Regularized Services of 103 Rescuers.    CEO Vscopk Mian Afzal Javed distributes shields to participants.    "مشترکہ مقصد2021ء "کا انعقاد.    Awareness seminar against sexual harassment and violence against women organized by Lahore Police.    Police Challan shows involvement of Zahir Jaffer's father in the murder of Noor Mukadam.    Here’s Pak Boon, an elephant at the Taronga Zoo Sydney, enjoying a mud bath in the Australian sun.    Pakistan urges world to recognise new reality in Afghanistan.    CCPO Directs Officers to Conduct Surprise Visits of Police Stations.    SPA CEYLON outlet now in Lahore.    VALIENT PUNJAB RANGERS IN 65 WAR.   

لاہور پولیس کے زیر اہتمام خواتین کے ساتھ جنسی ہراسگی وتشدد کے خلاف آگاہی سیمینار

Syed Asad Ali
14 Sep, 2021

14 ستمبر ، 2021

Syed Asad Ali
14 Sep, 2021

14 ستمبر ، 2021

لاہور پولیس کے زیر اہتمام خواتین کے ساتھ جنسی ہراسگی وتشدد کے خلاف آگاہی سیمینار

post-title

لاہور:سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر کی سرپرستی میں لاہور پولیس کے زیر اہتمام ' خواتین کے ساتھ ہراسگی اور تشدد' کے عنوان سے آگاہی سیمینار آج الحمرا ہال میں منعقد ہوا۔ صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور راجہ بشارت اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ صوبائی وزیر برائے ترقی خواتین آشفہ ریاض فتیانہ، مذہبی ہم آہنگی کے لئے وزیر اعظم کے خصوصی نمائندہ علامہ طاہر محمود اشرفی،ممتاز قانون دان جسٹس(ر) ناصرہ اقبال، وائس چانسلر لاہور کالج وویمن یونیورسٹی ڈاکٹر بشری مرزا، چیئرپرسن پنجاب وویمن پروٹیکشن اتھارٹی فاطمہ چدھڑ، صدور و عہدیداران لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، لاہور بار ایسوسی ایشن، این جی اوز، خواتین اساتذہ، طالبات سمیت لاہور پولیس کے افسران اور اہلکاروں نے بڑی تعداد میں سیمینار میں شرکت کی۔
 سیمینار کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے سی سی پی اور لاہور نے خواتین کے ساتھ جنسی ہراسگی اور تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لئے لاہور پولیس کے موثر اقدامات سے آگاہ کیا۔غلام محمود ڈوگر نے بتایا کہ خواتین کو جنسی جرائم سے محفوظ رکھنے کے لئے وویمن سیفٹی ایپ کا اجرا کیا جا چکا ہے۔خواتین لاہور پولیس کی آفیشل ویب سائٹ سے بھی وویمن سیفٹی ایپ سمارٹ فونز میں با آسانی ڈاون لوڈ کرکے کسی بھی ناگہانی صورتحال میں بروقت پولیس کی مدد حاصل کر سکتی ہیں۔
جنسی ہراسگی کی شکایات براہ راست سی سی پی او آفس درج کروانے کے لئے ہیلپ لائن1242 کو اسی مقصد کے کئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔لاہور پولیس شہر کے پہلے' اینٹی وویمن ہراسمنٹ اینڈ وائیلنس سیل' کا قیام بھی عمل میں لائی ہے جہاں خواتین پولیس افسران(وکٹم سپورٹ آفیسرز) جنسی ہراسگی اور متعلقہ جرائم کی کسی بھی شکایت کے اندراج اور داد رسی کے لئے ہمہ وقت موجود ہونگی۔وکٹم سپورٹ آفیسرز متاثرہ خواتین کی درخواست پر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر کا فوری اندراج، گرفتاری، میرٹ پر تفتیش اور کیس کی عدالتی کاروائی سمیت تمام متعلقہ امور میں خواتین کو قانونی و اخلاقی مدد اور رہنمائی فراہم کریں گی۔
لاہور پولیس آگاہی واک،فلیگ مارچ اور سیمینار کے ذریعے خواتین کا شعور اجاگر کر رہی ہے۔صوبائی وزیر راجہ بشارت نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں ہراسگی سمیت کسی بھی جرائم اور استحصال سے محفوظ رکھنے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔راجہ بشارت نے کہا کہ پراسیکیوشن کے نظام میں اصلاحات لا رہے ہیں۔جوڈیشل ریفارمز میں وکلا اور عدلیہ کا تعاون درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ مینار پاکستان واقعہ میں پولیس نے ہی متاثرہ خاتون کو ہجوم سے بچایا اور مدد فراہم کی۔خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے لاہور پولیس کی آپریشنل خدمات اور آگاہی مہم کو بے حد سراہا۔انہوں نے کہا کہ ادارے اور قانون دونوں موجود ہیں ضرورت عملدرامد کروانے کی ہے۔حکومت نے وویمن کراسسز سنٹرز،وویمن پروٹیکشن اٹھارٹی اور دیگر ادارے بنائے گئے۔تمام تھانوں میں خواتین پولیس افسران کے علاوہ خواتین کے لئے تھانے بھی موجود ہیں۔نئے ادارے بنانا جرم رکنے کی ضمانت نہیں بن سکتے۔انہوں نیکہا کہ ہمیں پرسیکیوشن سسٹم اور مانیٹرنگ کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت نے تفتیش کے اخراجات میں اضافہ کیا۔
راجہ بشارت نے کہا کہ ہمیں پولیس کی اچھی کارکردگی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے۔سول سوسائٹی اور میڈیا کو تنقید کے ساتھ پولیس کے مثبت پہلو بھی سامنے لانے چاہیئں۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو جنسی ہراسگی کے واقعات کے خلاف مل کر آواز اٹھانی چاہیئے تاکہ پراسیکیوشن کے بعد عدلیہ کے ذریعے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔
تقریب سے وزیر اعظم کے خصوصی نمائندہ برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر محمود اشرفی ،جسٹس (ر)ناصرہ اقبال،صوبائی وزیر آشفہ ریاض،وائس چانسلر لاہور کالج فار وویمن یونیورسٹی ڈاکٹر بشری مرزا سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے چیدہ چیدہ نمائندوں نے خطاب کیا اور خواتین کے حقوق اور جنسی ہراسگی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی۔
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM