ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

"میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.    UAE گولڈن جوبلی: گلوبل ولیج تصویری مقابلہ درہم 50,000 تک جیتنے کا موقع.    IMFکے ساتھ معاملات طے پا گئے ، معاہدہ اسی ہفتے ہو گا، شوکت ترین.    UET لاہور انڈرگریجویٹ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ.    Major progress in Lahore Police Anti-Drug Campaign.    "میرا ڈونا بلیسڈ ڈریم "کا پہلا ٹریلر جاری.    "پاکستان ممکنہ بھارتی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے".   

قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر قومیں ترقی کرتیں ہیں : عمران خان

ویب ڈیسک
07 Sep, 2021

07 ستمبر ، 2021

ویب ڈیسک
07 Sep, 2021

07 ستمبر ، 2021

قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر قومیں ترقی کرتیں ہیں : عمران خان

post-title

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں قانون کی بالادستی اور حکمرانی کے فقدان پر افسوس کا اظہار کرتے کہا ہے کہ سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک پر جو سب سے بڑا ظلم کیا وہ یہ کہ انہوں نے پہلے آئین توڑا اور پھر طاقتور طبقے کو این آر او دے دیا۔
اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا پرویز مشرف نے جس طاقتور طبقوں کو این آر او دیا، انہوں نے عوام کے پیسے پر ڈاکا ڈالا تھا اس لیے وہ کیسے کسی کو این آر او دے سکتے تھے۔
علاوہ ازیں عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں قانون کی بالا دستی نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا ملک ایشیا کے دیگر بیشتر ممالک کے مقابلے میں ترقی کے میدان میں پیچھے رہ گیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قانون کی حکمران کی بنیاد پر قومیں ترقی ترقی کرتی ہیں، 60 کی دہائی میں پاکستان کو دیکھ کر متعدد ممالک نے اپنا نظام بہتر کیا لیکن پھر 80 کی دہائی کے بعد پاکستان ہر میدان میں تنزلی کا شکار ہونا شروع ہوگیا۔
انہوں نے پاکستان کے تناظر میں ’بنانا ری پبلک‘ کا اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ایسے ملک میں قانون نہیں ہوتا لیکن وہاں طاقت کی حکمرانی ہوتی ہے، ہمارا ملک گزشتہ 30 برس میں تیزی سے نیچے گیا اور صورتحال یہ تک پہنچ گئی کہ بنگلہ دیش ہم سے آگے نکل گیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں دو قانون فعال ہیں، ایک قانون طاقتور اور حکمران طبقے اور دوسرا عام شہریوں کے لیے ہے، یہ مایوس کن صورتحال ہے جہاں انصاف کا نظام دو حصوں میں تقسیم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی اس سے زیادہ بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ماضی کےحکمرانوں کو ملک میں انصاف فراہم کرنے کی فکر ہی نہیں تھی، امریکا انٹرنیشنل کورٹ کو اہمیت نہیں دیتا کیونکہ طاقتور ہمیشہ قانون سے اوپر رہنا چاہتا ہے لیکن مہذب معاشرہ انہیں قانون کے نیچے لے کر آتا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ سابق صدر اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ملک پر جو سب سے بڑا ظلم کیا وہ یہ کہ انہوں نے پہلے آئین توڑا اور پھر طاقتور طبقے کو این آر او دے دیا۔
انہوں نے کہا پرویز مشرف نے جس طاقتور طبقوں کو این آر او دیا انہوں نے عوام کے پیسے پر ڈاکا ڈالا تھا اس لیے وہ کیسے کسی کو این آر او دے سکتے تھے۔
عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے خلاف ہماری جدوجہد نمایاں رہی، وہ ایک جمہوری جدوجہد تھی جس میں وکلا نے بھی بہت قربانی دی، وہ جدوجہد دراصل قانون کی بالادستی پر مشتمل تھی جس میں ایک آمر کو پیغام دے رہے تھے کہ آپ یہ نہیں کرسکتے۔
علاوہ ازیں وزیر اعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کے حوالے سے کہا کہ 90 لاکھ پاکستانی مختلف ممالک میں موجود ہیں اور ان کی جی ڈی پی ، ملکی جی ڈی پی کے تقریباً برابر ہے لیکن ہمارے ملک میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب وہ یہاں پلاٹ خریدتے ہیں تو اس پر قبضہ ہوجاتا ہے، اگر یہ معاملہ عدالت میں جائے تو برسوں لگ جاتے ہیں، لیکن یورپ میں قبضہ گروپ نہیں ہے کیونکہ وہاں قانون ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے فیصلوں کو قابل ستائش قرار دیا اور کہا کہ آپ کے فیصلے ہمارے معاشرے کے لیے بہت اہم ہیں، خاص طور پر ماحولیات سے متعلق فیصلے قابل ذکر ہیں۔
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM