ارضِ پاک نیوز نیٹ ورک

Arz-e-Pakistan News Network

Language:

Search

"میں ناگن، تو سپیرا " پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل.    "منی ہائسٹ "(Money Heist )کاآخری حصہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ریلیز کیا جائے گا.    NA-133 کا ضمنی انتخاب.    NA-133 ضمنی انتخاب.    NCA میں "دی سندھو پراجیکٹ اینگما آف روٹس " کے عنوان سے فن پاروں کی نمائش.    KIPS-CSS کی جانب سے CSSمیں کامیاب امیدواروں کے اعزاز میں عشائیہ.    NCA میں ٹریڈیشنل آرٹ کورسز ورکشاپ کی اختتامی تقریب.    NA-75 الیکشن کمیشن کی رپورٹ پر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ردعمل.    NA-133 ضمنی انتخاب : جمشید اقبال چیمہ کی اپیلوں پر الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ جاری.    UAE گولڈن جوبلی: گلوبل ولیج تصویری مقابلہ درہم 50,000 تک جیتنے کا موقع.    IMFکے ساتھ معاملات طے پا گئے ، معاہدہ اسی ہفتے ہو گا، شوکت ترین.    UET لاہور انڈرگریجویٹ داخلہ فارم جمع کرانے کی آخری تاریخ.    Major progress in Lahore Police Anti-Drug Campaign.    "میرا ڈونا بلیسڈ ڈریم "کا پہلا ٹریلر جاری.    "پاکستان ممکنہ بھارتی جارحیت کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہے".   

ای سی پی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر 37 اعتراضات اٹھادیے

ویب ڈیسک
08 Sep, 2021

08 ستمبر ، 2021

ویب ڈیسک
08 Sep, 2021

08 ستمبر ، 2021

ای سی پی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر 37 اعتراضات اٹھادیے

post-title

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے الیکٹرانکد ووٹنگ مشین (ای وی ایم) متعارف کرانے پر 37 اعتراضات اٹھادیے جسے ایک وزیر نے ای وی ایم کے خلاف قتل کی ایف آئی آر قرار دیا ہے۔
 ای سی پی نے سینیٹر تاج حیدر کی صدارت میں مسلسل دوسرے روز ملاقات کرنے والی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کو پیش کیے گئے ایک دستاویز میں خبردار کیا کہ مشین میں چھیڑ چھاڑ کی جاسکتی ہے اور اس کا سافٹ وئیر آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
میں کہا گیا یہ یقینی بنانا تقریباً ناممکن ہے کہ ہر مشین ایمانداری سے کام کرسکے
سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ای وی ایم اور انٹرنیٹ ووٹنگ متعارف کرانے کے دونوں منصوبوں کی مخالفت کی۔
الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے خواہاں دو متنازع بلوں پر ووٹنگ کے لیے ای سی پی نے اعتراضات سینیٹ پینل کو اپنے شیڈول سے ایک روز پہلے جمع کرائے تھے۔
ای سی پی کے خصوصی سیکرٹری ظفر اقبال حسین اور ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی خضر عزیز نے اجلاس میں شرکت کی۔
ای سی پی نے کہا کہ ای وی ایم کی بڑے پیمانے پر خریداری اور تعیناتی اور آپریٹرز کی بڑی تعداد کو ٹریننگ دینے کے لیے وقت بہت کم ہے، ایک ہی وقت میں ملک بھر میں ای وی ایم متعارف کرانا مناسب نہیں ہے، قانون کے تحت ضرورت کے مطابق ایک دن پولنگ تقریباً ناممکن ہوگی۔
ای سی پی نے ای وی ایم کے استعمال سے منسلک دیگر کئی مسائل کا بھی حوالہ دیا، جس میں بیلٹ کی رازداری، ہر سطح پر صلاحیت کا فقدان اور سکیورٹی کو یقینی بنانے اور مشینوں کو بریک کے دوران اور ٹرانسپورٹیشن کے دوران سنبھالنے کا فقدان شامل ہے۔

اس نے یہ بھی بتایا کہ انتخابی تنازع کی صورت میں کوئی ثبوت دستیاب نہیں ہوگا، بیلٹ پیپر میں تبدیلی کے حوالے سے آخری لمحات میں عدالتی احکامات کی وجہ سے ڈیٹا انٹیگریشن اور کنفیگریشن کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ مشین رکھنے کے لیے دھول اور نمی سے پاک مناسب درجہ حرارت کے ماحول کے گودام کی عدم موجودگی بھی ایک مسئلہ ہے۔
اس نے کہا کہ تکنیکی آپریٹرز کے لیے سیکھنے کے لیے بہت سی چیزیں ہیں، ای وی ایم پر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان کوئی اتفاق رائے نہیں تھا جو کہ مالی طور پر بھی درست ثابت نہیں ہوگی۔
ای سی پی نے کہا کہ ای وی ایم ووٹرز کی کم تعداد، خواتین کا کم ٹرن آؤٹ، ریاستی اختیارات کا غلط استعمال، انتخابی دھوکا دہی، الیکٹرانک بیلٹنگ، ووٹ خریدنا، امن و امان کی صورتحال، پولنگ کا عملہ، بڑے پیمانے پر سیاسی اور انتخابی تشدد اور ریاست کے ساتھ زیادتی کو نہیں روک سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ جلد بازی میں ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی صورت میں آئین کے مطابق آزاد، منصفانہ، قابل اعتماد اور شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔
اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ جرمنی، ہالینڈ، آئرلینڈ، اٹلی اور فن لینڈ نے سیکورٹی کی کمی کی وجہ سے ای وی ایم کا استعمال ترک کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے ہونا چاہیے اور غیر ضروری جلد بازی میں ای وی ایم کو متعارف نہیں کرانا چاہیے۔
ان کا موقف تھا کہ مشین کو اگلے عام انتخابات کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ای سی پی کی دستاویز کو ای وی ایم کے خلاف قتل کی ایف آئی آر قرار دیتے ہوئے اگلے عام انتخابات کے دوران مشین کو متعارف کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس پائلٹ پروجیکٹ کو اس مدت میں متعارف کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہاں پہیے کو دوبارہ ایجاد کرنے کے لیے نہیں ہیں، ایک باخبر فیصلہ لیا جانا چاہیے، اگر کوئی تحفظات ہیں تو حکومت اور وزارت سائنس و ٹیکنالوجی ان سے نمٹنے کے لیے تیار ہے
 


APNN نیوز، APNN گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

APNN News, the APNN Group or its editorial policy does not necessarily agree with the contents of this article.


عوامی بحث (0) تبصرے دیکھنے کے لئے کلک کریں Public discussion (0) Click to view comments
28 / 5 / 2021
Monday
1 : 23 : 31 PM