سوشل میڈیا قوانین پر حکومت  تنازع کی زد میں 

Tuesday, June 29undefined, 2021, 04:48:00 PM

لاہور:انٹرنیٹ کمپنیوں نے ایک بار پھر پاکستان کے ترمیم شدہ سوشل میڈیا قوانین کے خلاف تحفظات کا اظہار کیا ہے جس کے حالیہ مسودے میں کوئی تبدیلی نہیں اور کمپنیوں کے بقول سابقہ ورژن کے مقابلے میں موجودہ مسودہ 'رجعت پسند' ہے۔
نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا کے قوانین کا تیسرا ترمیم شدہ مسودہ بعنوان 'غیر قانونی آن لائن مواد کے قواعد 2021 کو ہٹانا' وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلاتنے رواں ماہ کے شروع میں شائع کیا تھا۔ڈان کو ایشیا انٹرنیٹ کولیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر جیف پین نے ای میل پر بتایا کہ اے آئی سی اور اس کی رکن کمپنیاں مجوزہ نظرثانی سے مایوس ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کئی ماہ سے صنعت کی جانب سے متعدد مرتبہ آرا دینے کے باوجود مسودے کے قوانین میں اب بھی متعدد پریشان کن دفعات شامل ہیں، جیسے ڈیٹا لوکلائزیشن اور مقامی موجودگی کی ضرورت، جو ملک کے ڈیجیٹل نمو اور تبدیلی کے ایجنڈے کو نقصان پہنچاتی ہیں۔مشاورت کے عمل پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اے آئی سی نے ترمیم شدہ مسودے پر وزارت کو تجاوز پیش کردی ہیں۔تجاویز کہا گیا ہے کہ تازہ ترین مسودہ جو صرف معمولی تبدیلیوں کے ساتھ پچھلے مسودے کو نقل کیا گیا ہے، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مشاورت کا عمل خاطر خواہ تبدیلیوں کے پیش نظر نہیں اٹھایا گیا۔اے آئی سی اور اس کی رکن کمپنیوں کو قوانین کے مختلف پہلوں پر تشویش ہے جس میں اعداد و شمار کو حذف کرنا، مواد کو روکنے کے لیے مقررہ وقت، ڈیٹا لوکلائزیشن سمیت مقامی موجودگی کی ضروریات سمیت سرکاری ایجنسیوں کو خفیہ مواد کو ہٹانے کی اہلیت شامل ہیں۔اس ترمیم شدہ قوانین کے تحت انٹرنیٹ کمپنیوں کو پاکستان میں ایک فزیکل آفس قائم کرنے اور ملک میں موجود شکایات افسر کے تقرر کی ضرورت ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، بھارت کی طرح شکایت کے ازالے کے لیے افسران کے تقرر پر اصرار کرتا ہے اور بھارت میں اسی تنازع کی بنیاد پر چند ہفتے قبل ٹوئٹر کے ایک افسر نے استعفی دے دیا تھا جو ملک کے ڈیجیٹل میڈیا کے قوانین کے تحت تھا۔