اب  جلد کی بیماریوں کی تشخیص گوگل سے بھی ممکن 

Saturday, June 19th, 2021, 02:55:48 PM

دنیا کی سب سے بڑی سرچ انجن و انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل کی جانب سے جلد کے امراض کی ابتدائی تشخیص کے لیے بنائے گئے آن لائن ٹول پر ماہرین نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اسے حقیقت سے بالاتر قرار دیا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق گوگل نے گزشتہ ماہ مئی میں ہی آرٹیفشل انٹیلی جنس کی مدد سے تیار کیے گئے اپنے آن لائن ٹول سے متعلق اعلان کیا تھا اور اب مذکورہ ٹول کی تکمیل مکمل ہونے پر ماہرین نے خدشات کا اظہار کیا ہے۔گوگل کے مطابق اس نے کئی تحقیقات اور جلد کے امراض میں مبتلا ہزاروں افراد کی تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد تین سال کی محنت سے مصنوعی ذہانت کا ایک سسٹم تیار کیا ہے جو کہ سی ٹی اسکین کی طرح کام کرتا ہے۔گوگل نے مئی 2021 میں اپنے بلاگ میں بتایا تھا کہ ڈرماٹولوجی اسسٹنٹ ٹول ٹھیک ایسے ہی کام کرتا ہے، جیسے اب بریسٹ کینسر کی تشخیص کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد سے اسکریننگ کی جاتی ہے۔گوگل کے مطابق مذکورہ ٹول کی تیاری کے وقت مصنوعی ذہانت کے سسٹم کو 65 ہزار مختلف رنگوں، مسائل اور بیماریوں کی تصاویر دکھائی گئی تھیں۔گوگل نے بتایا تھ اکہ مذکورہ ویب ایپلی کیشن کی طرز کے ٹول کے ذریعے کوئی بھی صارف اپنے موبائل کے کیمرے سے تصاویر کھینچ کر اپنے ساتھ ہونے والے مسئلے کی ممکنہ نوعیت معلوم کر سکے گا۔گوگل نے واضح کیا تھا کہ مذکورہ ٹول بیماری کی تشخیص یا علاج کے لیے نہیں ہے بلکہ مذکورہ ٹول کو ابتدائی معلومات کے لیے بنایا جا رہا ہے، تاکہ کوئی بھی شخص اپنے ساتھ ہونے والے مسئلے کی نوعیت سے واقف ہوسکے۔گوگل کے مطابق مذکورہ ٹول کے ذریعے آن لائن مصنوعی ذہانت کا سسٹم صارف کو تصاویر کے بعد ممکنہ طور پر 288 مسائل یا امراض میں سے ممکنہ امراض سے متعلق معلومات فراہم کرے گا۔