بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق میں امریکہ کے ایک اور فوجی اڈوں پر چار کاتیوشا راکٹ داغے گئے ۔عراق کے دارالحکومت بغداد سے 80 کلومیٹرشمال میں واقع شہر بلد میں اس فوجی اڈے پرامریکی اہلکار اور کنٹریکٹر رہتے ہیں۔عراق کے سرکاری میڈیا نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بلد کے فوجی اڈے پر اس راکٹ حملے کی اطلاع دی لیکن یہ نہیں بتایاکہ اس حملے میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک بھی ہوا ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس راکٹ حملے میں کس کا ہاتھ کارفرما ہے۔بلد میں امریکی بیس پراس راکٹ حملے سے چندے قبل معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو نے عراق میں اپنے مشن میں ڈرامائی طور پر توسیع کا اعلان کیا اور کہا کہ عراق میں سخت گیرجنگجو گروپ داعش کی باقیات سے لڑنے کے لیے نیٹو فوجیوں کی تعداد پانچ سو سے بڑھا کر چارہزار کی جارہی ہے۔اس سے قبل گذشتہ سوموار کو عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے علاقائی دارالحکومت اربیل میں امریکی فوج کے بیس پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک کنٹریکٹر ہلاک اور ایک امریکی فوجی سمیت نوافراد زخمی ہوگئے تھے۔امریکا کی قیادت میں اتحاد کے بیان کے مطابق اربیل کے بین الاقوامی ائیرپورٹ پر واقع فوجی اڈے پر 14 راکٹ داغے گئے تھے۔ان میں تین اسی بیس پر گرے تھے۔ تاہم اس راکٹ حملے میں مارا گیا سویلین کنٹریکٹر امریکی شہری نہیں تھا۔عراق میں قریبا گذشتہ ایک سال میں امریکا کی قیادت میں فورسز پر یہ سب سے مہلک حملہ تھا۔شمالی عراق میں امریکا اور اس کے کرد اور عراقی اتحادیوں کی ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاں کے ساتھ کشیدگی پائی جارہی ہے۔واضح رہے کہ اب تک ایران کے حمایت یافتہ متعدد مسلح گروپوں اور ملیشیاں نے امریکا کی قیادت میں اتحادی فورسز،ان کے ساتھ کنٹریکٹر کے طور پر کام کرنے والوں اور امریکی تنصیبات پر راکٹ اور سڑک کے کنارے بموں سے سیکڑوں حملے کیے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں بغداد میں امریکی سفارت خانے پر متعدد راکٹ داغے گئے۔ امریکہ عراق کی قیادت پر یہ زور دیتا چلا آرہا ہے کہ وہ ملک میں غیرملکی اہداف پر حملوں کو روکے۔گذشتہ ماہ دسمبر میں بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں امریکی سفارت خانے کو ایک راکٹ حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔اس کے بعد ہی امریکا نے عراق سے اپنے سفارتی عملہ ، فوجیوں اور تنصیبات پر شرپسندوں کے حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا۔