کورونا کی تیسری لہر شدت اختیار کر گئی:جان لیوا وائرس 100سے زائد افراد کی جان لے گیا

Wednesday, April 7th, 2021, 10:52:35 AM

اسلام آباد: کورونا کی تیسری لہر شدت اختیار کرگئی جان لیوا وائرس سے آج بھی 100 سے زائد افراد جاں بحق جب کہ 4 ہزار سے زائد مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 41 ہزار 699 کورونا ٹیسٹ کئے گئے، جس کے بعد مجموعی کووڈ 19 ٹیسٹس کی تعداد 10,535,06 ہوگئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 4 ہزار 004 مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 700,188 ہوگئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک سندھ میں 2 لاکھ67 ہزار 238 ، پنجاب میں 2 لاکھ 37 ہزار 594، خیبر پختونخوا میں 93 ہزار 862، اسلام آباد میں 62 ہزار 775، بلوچستان میں 19 ہزار 942، آزاد کشمیر میں 13 ہزار 713 اور گلگت بلتستان میں 5 ہزار 064 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا کے فعال مریضوں کی تعداد 64 ہزار 373 ہے۔ جب کہ 3 ہزار سے زائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا سے مزید 102 افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جس کے بعد اب اس وبا سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد مجموعی طور پر 15 ہزار 026 ہوگئی ہے۔این سی او سی کے مطابق کورونا سے ایک دن میں 2 ہزار 631 مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 620,789 ہوگئی ہے۔کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔