ناسا کا مریخ پرایک اور مشن کامیاب

Monday, April 5th, 2021, 04:24:21 PM

 کیلیفورنیا: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ناسا نے اعلان کیا ہے کہ پرسیویرینس روور کے ساتھ مریخ پر اتارا گیا ہیلی کاپٹر انجینیٹی اپنی پہلی اڑان بھرنے کیلیے تیار ہے۔البتہ یہ پہلی پرواز 11 اپریل سے پہلے ممکن نہیں ہوگی کیونکہ تب تک مریخ کے مخصوص حالات میں انجینیٹی (Ingenuity) کا مختلف تکنیکی اور حفاظتی پہلوں سے حتمی جائزہ لیا جائے گا۔اگر یہ پرواز کامیاب رہی تو انجینیٹی وہ پہلا ہیلی کاپٹر ہوگا جو مریخ کی فضاں میں پرواز کرے گا۔واضح رہے کہ پرسیویرینس روور اور انجینیٹی، دونوں ہی مریخ پر پہنچنے والے تازہ ترین مشن مارس 2020 کے اہم ترین حصے ہیں۔ اس مشن کا مقصد مریخ پر زندگی کے ممکنہ آثار کی تلاش ہے۔پرسیویرینس روور (Perseverance rover) چھ پہیوں والی گاڑی ہے جو مریخ کی سطح پر گھوم پھر کر اپنا کام کر رہی ہے۔انجینیٹی ہیلی کاپٹر کو اسی روور کے نچلے حصے میں محفوظ کرکے بند کیا گیا تھا، جو کچھ روز پہلے ہی اس سے الگ ہو کر مریخ کی سطح پر اتر چکا ہے۔ انجینیٹی کیلیے مریخ کی فضاں میں اڑنا کوئی آسان کام نہیں ہوگا کیونکہ مریخ کا کرہ ہوائی، ہمارے زمینی کرہ ہوائی کے مقابلے میں 10 گنا ہلکا ہے جبکہ وہاں کی کششِ ثقل بھی زمینی کشش سے 3 گنا کم ہے۔اگرچہ انجینیٹی کو بالخصوص مریخی ماحول مدِنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے لیکن مریخ پر، حقیقی حالات میں ہی اس کی اصل کارکردگی کا پتا چل سکے گا۔
یہی وجہ ہے کہ ناسا کے ماہرین، انجینیٹی کی پرواز سے متعلق ہر ممکن احتیاط برت رہے ہیں۔یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ اگر مریخ پر انجینیٹی کی پرواز کامیاب ہوگئی تو خلائی تحقیق کے میدان میں یہ انسانیت کا ایک اور بڑا قدم ہوگا۔انجینیٹی کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے ناسا جے پی ایل (جیٹ پروپلشن لیبارٹری) نے بتایا ہے کہ یہ ہیلی کاپٹر، پرسیویرینس روور کے پیٹ سے 4 انچ (10 سینٹی میٹر)نیچے، مریخ کی سطح پر کامیابی سے اتر چکا ہے۔ اس کا اگلا سنگِ مِیل، مریخ کی رات کو برداشت کرنا ہوگا۔رات کے وقت مریخ کا ماحول انتہائی سرد ہوجاتا ہے اور وہاں کا درجہ حرارت منفی 90 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرسکتا ہے۔ لہذا یہ جاننا ضروری ہے کہ شدید سرد ماحول میں انجینیٹی کے آلات اور حفاظتی انتظامات درست طور پر کام کررہے ہیں یا نہیں۔پرواز سمیت دوسرے کاموں کیلیے انجینیٹی میں ایک بیٹری نصب ہے جو صرف 237 گرام وزنی ہے اور 350 واٹ تک بجلی فراہم کرسکتی ہے۔بیٹری چارج کرنے کیلیے انجینیٹی میں شمسی پینل نصب ہیں، تاہم اس بیٹری کو پہلی بار پرسیویرینس روور کے ذریعے مکمل چارج کیا گیا ہے۔